مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ خطے میں بدامنی اور معمول کی تجارتی سرگرمیوں میں خلل کا بنیادی سبب ہے۔
عراق کے دورے کے پہلے روز بغداد میں عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر ہیبت الحلبوسی اور ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات کے دوران قالیباف نے کہا کہ خطے کے بیشتر بحرانوں کی بنیادی وجہ امریکہ کی مداخلت اور اسرائیل کا وجود ہے۔
انہوں نے ایران کے خلاف حالیہ جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام نے مزاحمت، مسلح افواج اور قیادت کی حکمت عملی کے ذریعے امریکہ کی طاقت کا تصور توڑ دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ مزاحمت ہی کامیابی کا راستہ ہے اور اگر جنگ کے لیے تیار نہ ہوں تو مذاکرات بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوں گے۔
قالیباف نے ایران اور عراق کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی روابط، اقتصادی تعاون اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کا فروغ اہم ترجیحات ہیں۔
انہوں نے شلمچہ۔بصرہ ریلوے منصوبے، اروندرود کی ڈریجنگ اور اقتصادی تعلقات کے فروغ کو دونوں ممالک کے اہم منصوبوں میں شمار کیا اور کہا کہ پارلیمانیں ان منصوبوں کی تکمیل میں حکومتوں کی معاونت کر سکتی ہیں۔
دوسری جانب عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر ہیبت الحلبوسی نے ایران کے خلاف اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایرانی عوام کی مزاحمت کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ عراقی حکومت اور سیاسی قوتیں اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہیں۔
الحلبوسی نے عراق سے امریکی افواج کے قریب المدت انخلا کا ذکر کرتے ہوئے ایران کے ساتھ بالخصوص اقتصادی شعبے میں تعلقات مزید وسعت دینے پر زور دیا۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے ذریعے عراقی تیل کی برآمدات کو آسان بنانے کی بھی درخواست کی، جس پر قالیباف نے کہا کہ خطے میں امن و سلامتی کی بحالی اور امریکی مداخلت کے خاتمے سے معمول کی تجارتی سرگرمیوں کی راہ ہموار ہوگی۔
آپ کا تبصرہ